qalamkar.pk
میری ذات کو نشان چاہیے
میری ذات ذرہ بے نشان ہے مجھے اس کا کوئی نشان چاہیے یہ گھاؤ جو آئے روز مجھ پر لگتے ہیں یہ الفاظ کے نشتر کیا کم تھے یہ ناقدری کے دکھ کیا کم تھے جو اب میرے جسم پر بھی وار ہونے لگے۔ یہ زخم پہلے ذات اور…